اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی ۔ ابنا ۔ کی رپورٹ کے مطابق الاخبار نے اپنی رپورٹ میں تحریر کیا ہے کہ عراق کے وزير اعظم ادل عبدالمہدی کا اچانک تہران کا دورہ اس بات کا مظہر ہے کہ انھیں برطانیہ نے اپنا ثالث بنا کر تہران بھیجا ہے اور برطانیہ تہران کے ساتھ اپنی کشیدگی کو کم کرنے کی تلاش و کوشش کررہا ہےالاخبار کے مطابق ایران نے آبنائے ہرمز میں برطانوی تیل بردار کشتی کو بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی کرنے پر ضبط کرلیا جب کہ اس سے قبل برطانیہ نے ایرانی تیل بردار جہاز کو جبل الطارق میں ضبط کیا تھا۔ ایران کے منہ توڑ جواب کی بنا پربرطانیہ کوعالمی سطح پر سخت شرمندگی اور سرافکندگی کا سامنا ہے اور اسی لئے اس نے ایران کے ساتھ کشیدگی کم کرنے کے لئےعراقی وزیر اعظم کو ثالثی کے طور پر ایران بھیجا ہے۔ الاخبار کے مطابق عراقی وزیر اعظم نے دورہ ایران سے قبل برطانوی وزیر دفاع سے ٹیلیفون پر گفتگو بھی کی۔ ذرائع کے مطابق برطانیہ نے ایرانی تیل بردار کشتی کو آزاد کرنے پر آمادگی بھی ظاہر کی ہے۔
.......
/169